الیکشن کے پانچ ماہ بعد الیکشن کمیشن نے 41 قومی وصوبائی اسمبلیوں کے ریکارڈز گوگل ڈرائیو لنک پر موڈیفائی کردیے۔
الیکشن کمیشن کے اس اقدام نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں، قواعد کے تحت الیکشن کمیشن پابند ہےکہ الیکشن ریکارڈ پولنگ کے 14 دن کے اندر اپ لوڈکرے، بعد میں اسے موڈیفائی نہیں کیا جاسکتا۔
الیکشن کمیشن نے 4 اور 5 جولائی کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی قومی اور صوبائی اسمبلی کے 41 حلقوں کے فارم 45 اور فارم 46 موڈیفائی کیے ہیں۔
جن حلقوں کے فارمز موڈیفائی کیےگئے ان میں وزیراعظم شہباز شریف کی چھوڑی ہوئی صوبائی نشست کے علاوہ حمزہ شہباز، مریم نواز، صاحبزادہ حامد رضا اور شہریار آفریدی کے حلقے بھی شامل ہیں۔
یہ ریکارڈ کیوں موڈیفائی کیا گیا؟ الیکشن کمیشن تاحال اس پر خاموش ہے۔