پنجاب میں مجرموں کے سر کی قیمت مقرر کرنے کیلئے پولیس رولز میں ترمیم کا فیصلہ

0 164

پنجاب حکومت نے تاریخ میں پہلی مرتبہ دہشت گردوں اور سنگین جرائم میں ملوث مجرمان کے سروں پر قیمت مقرر کا باقائدہ لیگل فریم ورک بنانے کے لیے پولیس رولز 1934 میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔

اس حوالے سے خصوصی کمیٹی تشکیل دے گئی ہے جس میں سیکرٹری پنجاب، آئی جی پولیس، سیکرٹری خزانہ اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی شامل ہیں۔

دہشت گردوں اور سنگین جرائم میں ملوث مجرمان کے سروں پر قیمت مقرر کرنے کے لئے پولیس رولز 1934 رول 15.18میں ’’ہیڈ منی‘‘ کا ذکر نہیں تھا اور اس حوالے سے انعامات کو ’’ لبرل ایوارڈز ‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔

اس سے قبل دہشت گردوں اور سنگین جرائم میں ملوث مجرمان کے سروں پر قیمت کا تعین آئی جی پنجاب کے ایک حکم نامے (Standing Orders) پر ہو رہا تھا اور آئی جی محکمہ پولیس کی طرف سے بنائے گئے پوائنٹس کی بنیاد پر دہشت گردوں اور سنگین جرائم میں ملوث مجرمان کے سروں کی قیمت متعین کرتے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ آئی جی یہ اختیارات پولیس آرڈر 2002ء کے آرٹیکل 112کے تحت استعمال کرتے تھے جس میں یہ لکھا ہے کہ آئی جی کوئی بھی رول نوٹیفائی کر سکتا ہے۔

اس سے قبل آئی جی پنجاب کی طرف سے 19مختلف پوائنٹس بنائے گئے تھے۔ ان میں دو طرح پوائنٹس تھے کے مجرمان شامل تھے جن میں ایک انوسٹی گیشن ونگ کے مجرمان جن میں ڈاکو اور دیگر سنگین جرائم کے مرتکب مجرم اور دوسرے دہشت گرد یا پھر دہشت گرد تنظیم کے سربراہان تھے۔

اس سے قبل زیادہ سے زیادہ 26 پوائنٹس کے ساتھ کسی مجرم کے سر کی قیمت 40 لاکھ تک رکھی گئی تھی لیکن پچھلے دو سال کے دوران دہشت گردوں اور سنگین جرائم میں ملوث مجرمان کے سروں پر قیمت ایک کروڑ تک چلی گئی تھی جو اب 2کروڑ تک بھی ہو سکتی ہے۔

2021-22میں پی ٹی آئی حکومت کے دوران دہشت گردوں اور سنگین جرائم میں ملوث مجرمان کے سروں پر قیمت کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کی طرف سے Observation لگائی گئی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.