وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت 27 ویں آئینی ترمیم پر غور نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ قیاس آرائیوں سے پرہیز کیا جائے، میں نہیں سمجھتا کہ آئینی بینچ میں جانے سے کوئی متنازعہ ہوجائے گا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم پر پی ٹی آئی کے تحفظات دور کیے گئے مگرجب یہ جیل میں اپنے بانی سے ملنے گئے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی 4-5 دھڑوں میں منقسم ہے، بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے الگ الگ گروپ ہیں۔ اسی لیے ان کے احتجاج کیلئے کوئی نہیں نکلتا، اس بار بھی ہم ان کی احتجاج کی کال پر پرُسکون ہیں۔
خیال رہے کہ دو روز قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران 27 ویں آئینی ترمیم لانے سے متعلق اتفاق رائے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔
بعد ازاں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں 27 ترمیم سے متعلق اتفاق کی خبروں کو مسترد کر دیا تھا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور بلاول کی ملاقات میں موجود تھا، میٹنگ میں 27 ویں ترمیم پر اتفاق جیسی کوئی بات نہیں ہوئی، میٹنگ میں مختلف نوعیت کے معاملات زیر غور آئے۔