الٹراساؤنڈ لہروں سے پلاسٹک آلودگی کو دور کرنے کا طریقہ کار متعارف

0 117

پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ذرات دنیا بھر میں پانی کو آلودہ کرتے ہیں بشمول پینے کا پانی اور ساتھ ہی ہوا اور بہت سی خوراک کو بھی۔ تاہم اب محققین کی ایک ٹیم نے الٹراساؤنڈ لہروں کی مدد سے اسے ختم کرنے کا طریقہ کار متعارف کروایا ہے۔

اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم سب کے جسم میں بھی مائیکرو پلاسٹک موجود ہیں اور سائنسدانوں کو ابھی تک ان پلاسٹک کے ذرات سے لاحق تمام خطرات کا مکمل علم نہیں ہے جو کہ 5 ملی میٹر (0.2 انچ) جتنے یا اس بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔

کچھ پلاسٹک کے اجزاء زہریلے ہو سکتے ہیں۔ اور بہت سے آلودگی پھیلانے والے کیمیکل کے ساتھ مل زہریلا مادہ تیار کرسکتے ہیں۔ اسی طرح وائرس اور بیکٹیریا بھی اس متحرک ہو سکتے ہیں ۔

حیرت کی بات نہیں کہ پلاسٹک کے یہ ٹکڑے دریاؤں سے لے کر سمندر تک ہر چیز میں جنگلی حیات کے لیے خطرہ بن چکے ہیں،اگر ہم مائکرو پلاسٹک کو مرتکز کرنے کے لیے اس طریقہ کو استعمال کر سکیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.