ایک ہمہ گیر اور جامع سمجھوتہ چاہتے ہيں،اسماعیل ہنیہ

0 128

حماس کے پولٹ بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ امریکا نے غاصب صیہونی حکومت کی حمایت کی ہے اس کو چاہئے کہ تل ابیب کو اجتماعی قتل عام اور نسل کشی کے لئے اسلحے دینے کے بجائے اس کو جرائم کا سلسلہ جاری رکھنے سے روکے ۔

انہوںنے کہا کہ ایک غاصب حکومت نے پوری دنیا کو یرغمال بنا رکھا ہے، اس نے کافی سیاسی مشکلات کھڑی کی ہیں اور غزہ میں بہت زیادہ جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

نتن یاہو غزہ پر جارحیت جاری رکھنے کے لئے مستقل طور پر نئے نئے بہانے تلاش کررہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ صیہونی وزیر اعظم جنگ کا دائرہ بڑھا کر ثالثی کی کوششوں کو بھی سبوتاژ کررہے ہیں۔

ہم نے اپنا وفد قاہرہ بھیجنے سے پہلے ثالثی کرنے والوں سے بات کی اور استقامتی محاذ کے دوسرے گروہوں کے ساتھ وسیع میٹنگیں کی ہیں، حماس نے فلسطینی عوام کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت بند ہونے کے مطالبے پر استوار اپنا مثبت اور لـچکدار موقف باقی رکھا ہے۔

اس سے پہلے صیہونی جریدے نے رپورٹ دی تھی کہ صیہونی حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی کے بغیر شمالی محاذ پر حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے تعلق سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔

صیہونی اخبار نے لکھا ہے کہ صیہونی حکومت کے سکیورٹی حکام دیکھ رہے ہیں کہ فوج غزہ میں موثر جنگ نہیں کرسکتی لیکن وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو، اور اندرونی سیکورٹی کے وزیر ایتامار بن گویر اس حقیقت سے چشم پوشی کررہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.