عالمی برادری انسانی امداد کی ترسیل کے لئے گذرگاہیں کھول دے، سلامہ معروف

0 117

غزہ کی پٹی میں سرکاری انفارمیشن آفس کے سربراہ سلامہ معروف نے کہا ہے کہ رفح گذرگاہ کے مسلسل بند رہنے اور ابوسالم گذرگاہ سے امدادی ٹرکوں اور امدادی سامان کو غزہ میں داخل ہونے سے روکنے کی وجہ سے غزہ کے اندر انسانی بحران مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے-

انہوں نے کہا کہ قحط کے خوف سے غزہ شہر اور غزہ کی پٹی کے شمال کو ایک بار پھر خطرہ لاحق ہے اور اس کے وسطی اور جنوبی صوبوں میں غذائی تحفظ کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔

خاص طور پر جب سے قابض فوج کی کارروائیوں کی وجہ سے دسیوں ہزار لوگ رفح سے بے گھر ہو چکے ہیں، ہماری قوم کو امداد فراہم کرنے کی کوششیں بہت سست اور انسانی تباہی کی شدت کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے دوران غزہ کی پٹی کے مرکز اور جنوب میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد سو سے زیادہ نہیں تھی۔ جبکہ غزہ شہر اور اس کے شمال میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعد دو سو تیس ہے۔

جو کہ عالمی ادارہ خوراک کے تعاون سے بھیجے گئے تھے اور آٹے کے ایک سو چوراسی ٹرک داخل ہوئے جبکہ صرف دو ٹرک دواؤں اور دیگر خوراک کے پیکج کے ساتھ داخل ہوئے ہيں-

ایسے میں جبکہ انسانی المیہ شدت اختیار کر رہا ہے، ہم رفح کراسنگ سے حملہ آوروں کے انخلاء کا مطالبہ کرتے ہیں، ہر کسی کو قابضین پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ امدادی قافلے کو رفح اور کرم ابو سالم جیسی مشہور گزرگاہوں سے داخل ہونے کی اجازت دیں۔

نیز المنطار، الشجاعیہ اور بیت حانون کراسنگ کو فعال کریں۔ انہوں نے تاکید کی کہ عالمی برادری کو بھوک سے مرنے والوں کو بچانے کے لیے فوری اقدام کرنا چاہیے اور بہترین راستہ زمینی گزرگاہیں ہیں کہ جن کے ذریعے سے غزہ کی پٹی میں امدادی ٹرکوں کے لئے باقاعدہ داخلہ ممکن ہے۔

قابض عناصر ان ٹرکوں کو جو مصر اور رفح کراسنگ کے اس پار قطار میں کھڑے ہیں، سلامتی کونسل اور دی ہیگ فوجداری عدالت کی قراردادوں کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں داخل ہونے سے روک رہے ہیں،غزہ کے مکینوں کی دردناک انسانی صورت حال پر ذرا بھی توجہ نہیں دے رہے ہيں –

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.