فلسطین کی تحریک جہاد اسلامی نے نیتن یاہو کے سازشی منصوبے کا پردہ فاش کردیا

0 112

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس اور بعض دیگر فلسطینی تنظیموں کے رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات اور قیدیوں کے تبادلے کی تجویز کو فلسطین کے قومی مفاد میں قرار دیا ہے تاہم صیہونی ٹولہ بدستور غزہ میں جنگ پر مُصر دکھائی دے رہا ہے۔

نیوز چینل کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ حماس کے ایک ترجمان جہاد طہ نے کہا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے جواب میں، کچھ اصلاحات کی گئیں اور اس میں جنگ بندی، انخلاء، تعمیر نو اور قیدیوں کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان اصلاحات کی تفصیلات پر اپنے ثالث دوستوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

لبنان میں حماس کے نمائندے احمد عبد الہادی نے بھی امریکہ اور ثالث ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صیہونی حکومت پر فلسطینی مزاحمت کی جوابی تجاویز کو ماننے کے لئے دباؤ ڈالیں۔اُدھر فلسطین کی تحریک جہاد اسلامی کے سینئر رہنما رسمی ابو عیسیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ نیتن یاہو نے اس تنظیم کے ساتھ الگ سے معاہدہ کرنے کی کوشش کی تھی جسے اُس نے ٹھکرا دیا تھا۔

فلسطینی مزاحمت جارحیت کو رکوانے اور صیہونی فوج کو غزہ سے نکالنے کے لئے کوشاں ہے، صیہونی ٹولے کے سابق مذاکرات کار ڈینیئل لیوی نے ایک بار پھر غزہ میں جنگ جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ لیوی کا کہنا ہے کہ امریکہ کچھ بھی کہے مگر غزہ میں جنگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.