حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی زندگی پر ایک نظر

0 109

اسماعیل ہنیہ سن 1962 میں غزہ کے ساحل پر واقع ایک پناہ گزيں کیمپ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی وجہ سے غربت و تباہی کا بچپن سے ہی تجربہ کیا تھا۔

جب اسرائیل نے سن 1967 میں غزہ اور غرب اردن پر قبضہ کر لیا تو اسماعیل ہنیہ نے اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے تحت زندگی کی تلخیوں کو بھی بخوبی محسوس کیا

اسماعیل ہنیہ نے اقوام متحدہ کے ایک اسکول میں تعلیم حاصل کی ، غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں اعلی تعلیم حاصل کی اور طلبہ یونین کے صدر بھی بنے،

وہ اسرائيل کے خلاف سیاسی جد وجہد میں بھی سرگرم تھے، ہنیہ ان نوجوانوں میں شامل تھے ، جنہوں نے پہلی انتفاضہ تحریک ميں اہم کردار ادا کیا اور سن 1978 میں انہوں نے جیل کی زندگی کا بھی تجربہ کیا

قید اور انتفاضہ کے دوران وہ حماس کے لیڈروں سے آشنا ہوئےاور تین سال قید کی صعوبتيں برداشت کرنے کے بعد حماس کے رہنماؤں کے ساتھ انہيں لبنان جلا وطن کر دیا گیا لیکن وہاں بھی انہوں نے اپنی جد و جہد جاری رکھی

سن 1993 میں وہ غزہ واپس گئے اور اسلامی یونیورسٹی کے سربراہ بن گئے، اسی دوران وہ حماس کے بانی شیخ احمد یاسین سے قریب ہوئے اور شیخ احمد یاسین کی صیہونی جیل سے رہائی کے بعد وہ حماس کے سربراہ کے دفتر کے چیف بن گئے

اسرائیل نے دونوں پر قاتلانہ حملہ کیا دونوں زخمی ہوئے ، لیکن جان بچ گئی، دوسری انتفاضہ تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائيل نے حماس کے پہلی نسل کے اکثر رہنماؤں کو قتل کر دیا،جس کی وجہ سے اسماعیل ہنیہ جیسے دوسری نسل کے رہنماؤں کو آگے آنا پڑا

اس دوران اسرائیل کے غزہ سے انخلاء کے بعد اسماعیل ہنیہ نے بڑی تيزی سے حماس کو منظم کیااور محمد ضیف اور القسام بریگیڈ کی مدد سے فلسطینیوں کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیا ۔ فلسطین میں انتخابات کے دوران بھی اسماعیل ہنیہ کی قیادت میں حماس کی فہرست کو سب سے زیادہ ووٹ ملے۔

اور وہ فلسطین کے وزیر اعظم بن گئے، لیکن اسرائیل نے امریکہ کی مدد سے اور غزہ کا محاصرہ کر کے ، ایک اچھی حکومت کی تشکیل کی کوئی گنجائش نہيں چھوڑی، اسماعیل ہنیہ کی قیادت کے دوران اسرائیل نے کئی بار ان پر قاتلانہ حملہ کیا۔

اسے کامیابی نہيں ملی اور حماس دن بہ دن مضبوط ہوتی چلی گئی اور سن 2014 کی جنگ میں یہ ثابت ہو گیا کہ اب اسرائیل ، حماس کی طاقت کا مقابلہ نہيں کر سکتا، اسماعیل ہنیہ کی مقبولیت بڑھتی گئی اور سن 2017 میں وہ حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ بن گئے۔

اسرائيل نے اسماعیل ہنیہ کو کئی بار غزہ جانے سے روکا اور ایک بار رفح پاس میں انہيں قتل کرنے کی بھی کوشش کی،جس کی وجہ سے حماس کے سینئر لیڈروں نے یہ فیصلہ کیا کہ اسماعیل ہنیہ غزہ سے باہر جائيں

اور باہر رہ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

اسرائیل نے بزدلی دکھاتے ہوئے اس کا بدلہ اسماعیل ہنیہ کے اہل خانہ کو قتل کر کے لے لیا لیکن اس سے اسماعیل ہنیہ اور حماس کی مقبولیت بڑھتی گئی اور آج بھی فلسطین اور قدس کی آزادی کے لئے اس عظیم فلسطینی رہنما کے کردار کی اہمیت سے کوئی انکار نہيں کر سکتا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.