بنگلا دیش میں کوٹا سسٹم کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ نے وزیراعظم حسینہ واجد کا تختہ الٹ دیا ہے۔
ان دنوں بنگلادیش پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں ہے، یہ مظاہرے گزشتہ ماہ طلبہ گروپوں کی جانب سے سرکاری ملازمتوں میں متنازع کوٹہ سسٹم کو ختم کرنے کے مطالبہ کے ساتھ شروع ہوئے تھے، ان مظاہروں میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
طلبہ کے اس احتجاج نے وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا اور وہ پیر کو استعفیٰ دے کرہیلی کاپٹر میں بھارت فرار ہوگئیں۔
حکومت کے خلاف مظاہروں میں جہاں ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکلے وہیں ان کی ماؤں نے بھی اس احتجاج میں ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مائیں سڑک پر احتجاج کرنے والے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے چیزیں کھلارہی ہیں اور ٹھنڈی بوتلیں بھی انہیں فراہم کر رہی ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ خواتین نے سڑک پر ٹھنڈے شربت بناکر بھی بچوں کو گلاسوں میں بھر کر دیے اور انہوں نے طلبہ کے ہمراہ احتجاج میں نعرے بھی لگائے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم حسینہ واجد کے مستعفی ہونے کے بعد ڈھاکا کی سڑکوں پر طلبہ کا جشن جاری ہے ۔ مظاہرین کی جانب سے شکرانے کے سجدے اور نوافل بھی ادا کیے جا رہے ہیں ۔
گزشتہ روز عوامی لیگ اور اس کی طلبہ تنظیم کے ارکان نے پولیس سے مل کر مظاہرین پر گولیاں چلائی تھیں۔