امریکی ویٹو فلسطینی قوم کو نابود، معذوراورتباہ کرنے کی کوشش

0 101

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دس غیرمستقل ارکان کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے کے امریکی ویٹو کے بعد فلسطین کے نمائندے نے واشنگٹن کے رویے پر کڑی تنقید کی تاہم اسرائیلی حکومت کے نمائندے نے امریکہ کے اس اقدام پر اس کا شکریہ ادا کیا۔

اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ماجد بامیا نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی مجوزہ قرارداد پر امریکی ویٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کے ہاتھوں نسل کشی کے خاتمے کی قرارداد کی مخالفت کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ماجد بامیان نے سلامتی کونسل میں کہا کہ اسرائیل تو ہمیشہ یہی دعوی کرے گا کہ شرائط پوری نہیں ہوئی ہیں کیونکہ اس کا منصوبہ ہی جنگ کو جاری رکھنا، زمینوں پر قابض رہنا اور لوگوں کو تباہ و برباد کرنا ہےانہوں نے اسرائیل کے جاری حملوں کو ایک قوم کو نیست و نابود کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ چودہ مہینے ہو چکے ہیں اور ہم اب بھی اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا نسل کشی بند ہونی چاہیے ؟۔ اس نسل کشی کو روکنے کی کوشش کرنے والی قرارداد کو ویٹو کرنے کا کیا جواز بنتا ہے؟

انہوں نے غیر مشروط جنگ بندی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ یہ تمام زندگیوں کو بچانے کے لیے ضروری ہے اور اس تنازع کو حل کرنے کی راہ میں پہلا قدم ہے۔

ماجد بامیا نے مزید کہا کہ امریکی ویٹو کے ذریعے کہ جوغیر مشروط جنگ بندی کی درخواست کی راہ میں رکاوٹ بنا ، مؤثر طریقے سے اس جنگ کی حمایت کی ہے جس میں ایک پوری قوم کو نابود کرنے، معذور کرنے، دہشت زدہ کرنے اور تباہ کرنے” کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن اقوام متحدہ میں اسرائیلی حکومت کے سفیر اور مستقل نمائندے ڈینی ڈینن نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی مذمت کی اور اسے ویٹو کرنے پر امریکہ کا شکریہ ادا کیا۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.