جہاں ملٹری کی شمولیت ہو وہاں ملٹری کورٹ شامل ہوں گی: جج آئینی بینچ

0 106

فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کیس میں آئینی بینچ کے جج جسٹس حسن اظہر نے کہا جہاں ملٹری کی شمولیت ہو وہاں ملٹری کورٹ شامل ہوں گی۔

سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی جس دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیے۔

دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ ایوب خان کے دور میں 1962 کے آئین کے تحت لوگوں کو بنیادی حقوق میسر تھے؟وکیل عذیر بھنڈاری نے جواب دیا اس وقت بھی بنیادی حقوق دستیاب نہیں تھے۔

جسٹس حسن اظہر نے کہا فوجی تنصیبات پر حملہ ہوا، ان کی سکیورٹی کسی آرمی پرسنل کے کنٹرول میں ہوگی، میڈیا پر ہم نے فوٹیجز دیکھی ہی، جہاں ملٹری کی شمولیت ہو وہاں ملٹری کورٹ شامل ہوں گی۔

وکیل وزیر بھنڈاری نے دلائل دیے 103 افراد ایسے ہیں جن کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہو رہا ہے، اس کیس میں عدالت نے طے کرنا ہے قانون کو کس حد تک وسعت دی جاسکتی ہے۔

عزیر بھنڈاری نے کہا 21ویں آئینی ترمیم کے باوجود عدالت نے قرار دیا مخصوص حالات کے سبب ترمیم لائی گئی، آرمی ایکٹ کا سویلین پر اطلاق کرنے کے لیے آئینی تحفظ دینا پڑے گا۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.