رضوانہ تشدد کیس: کمسن ملازمہ رضوانہ نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا

0 124

او ایس ڈی بنائے گئے سول جج عاصم حفیظ کے گھر تشدد کا شکار ہونے والی کمسن ملازمہ رضوانہ نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق رضوانہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ جج کی اہلیہ مجھ پر روزانہ تشدد کرتی تھیں۔ ڈنڈوں، لوہے کی سلاخوں اور دیگر چیزوں سے مارا جاتا تھا۔غصے میں آکر مالکن لاتیں اور ٹھڈے بھی مارتی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے رضوانہ نے بتایا کہ جج عاصم حفیظ کی اہلیہ بال پکڑ کر میرا سر دیوار سے مارتی تھیں۔مجھے کئی کئی روز کمرے میں بند کر کے بھوکا رکھا جاتا تھا۔فیملی باہر جاتی تو ہفتہ ہفتہ مجھے گھر میں بند رکھتے۔

ذرائع کے مطابق کمسن گھریلو ملازمہ نے مزید بتایا کہ مجھے ماں باپ سے ملنے کی اجازت نہیں ملتی تھی۔ٹیلی فون پر بات کراتے مگر جج کی اہلیہ ساتھ ہوتی تھی۔جج کی اہلیہ تشدد کا گھر والوں کو نہ بناتے کا کہتیں اور دھمکاتیں تھیں۔میرے زخموں کی مرہم پٹی بھی نہیں کراتے تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.