پولیس ناقص تفتیش سے لوگوں کیلئے مسائل پیدا کر رہی ہے،سپریم کورٹ

0 107

سپریم کورٹ میں شیخوپورہ میں اراضی تنازعہ پر قتل کیس کی سماعت کے دوران جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ پولیس ناقص تفتیش سے لوگوں کیلئے مسائل پیدا کر رہی ہے، پولیس نے مرضی سے نہیں قانون کے مطابق تفتیش کرنی ہوتی ہے۔

جسٹس مظاہرعلی نقوی اور جسٹس جمال مندوخیل پر مشتمل بینچ نے شیخوپورہ میں اکبر نامی شہری کے قتل کیس میں ملزم کی ضمانت سے متعلق کیس کی سماعت کی جسٹس مظاہر علی نقوی کی ناقص تفتیش پر آر پی او اور ڈی پی او شیخوپورہ کی سرزنش کرتے ہوے ریمارکس دیئے کہ پولیس ناقص تفتیش سے لوگوں کیلئے مسائل پیدا کر رہی ہے۔

پولیس اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔پولیس نے مرضی سے نہیں قانون کے مطابق تفتیش کرنی ہوتی ہے۔قتل کا مقدمہ ہے کسی کی جان لی گئی ہے۔آر پی او شیخوپورہ بابر سرفراز نے عدالت کو بتایا کہ ناقص تفتیش پر آئی او کو شوکاز نوٹس پر وضاحت مانگی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تفتیشی افسر نے ملزم کے بیان پر اس کو کیسے بے گناہ کردیا۔

جسٹس مظاہر نقوی کا تفتیشی افسر سے پوچھا کہ ملزم کو بے گناہ کس کے کہنے پر کیا؟ جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ڈی ایس پی فیروزوالا میاں شفقت کے کہنے پر رپورٹ لکھی۔عدالت نے ملزم سانول یوسف کی ضمانت درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔سانول یوسف پر جون 2022 میں اکبر نامہ شہری اراضی تنازعہ پر قتل کا الزام ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.