عدت میں نکاح کیس، سماعت 24 اپریل تک ملتوی، عمران اور بشریٰ بی بی ریلیف سے محروم

0 66

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو عدت میں نکاح کیس میں ریلیف نہ مل سکا اور خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی کے دلائل مکمل نہ ہوسکے۔

اسلام آباد کے سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کی۔

دوران سماعت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلا سلمان اکرم راجہ، عثمان ریاض گِل اور خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب، اعظم سواتی، خالد خورشید اور فیصل جاوید بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے۔

شکایت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ سابق شوہر خاور مانیکا کی درخواست پر بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

خاور مانیکا کی شکایت پر 496 اور 496 بی کی دفعات شامل کی گئیں تھی لیکن ٹرائل کورٹ نے 496 بی کی دفعہ کو حذف کرکے 496 کے تحت سزا سنائی تھی۔

دلائل میں کہا کہ دونوں ملزمان نے فرد جرم عائد ہونے پر صحت جرم سے انکار کیا تھا، 1989 میں خاور مانیکا اور بشریٰ بی بی کی شادی ہوئی، خوشحال زندگی گزار رہے تھے اوردرمیان میں بانی پی ٹی آئی داخل ہو گئے۔

راجہ رضوان عباسی ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ سی آر پی سی میں 496 کیا ہے اسی پر دلائل دونگا، کچھ چیزیں حقائق کے برعکس بتائی گئی ہیں۔

اس کیس میں کچھ چیزوں کیلئے میں بلیک لا ڈکشنری کا سہارا لوں گا، اس کیس میں دو بڑے اہم گواہان کے بیانات موجود ہیں، کیس کے اہم گواہان کے مطابق عدت کے دوران نکاح کیا گیا، نکاح خواں نے دونوں سے نکاح کے تمام تر تقاضے مکمل ہونے کا پوچھا تھا۔

پی ٹی آئی نے ہی نکاح خواں کو دوبارہ نکاح کیلئے کہا تھا، شواہد موجود ہیں کہ دونوں عدت میں نکاح سے متعلق آگاہ تھے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلا شواہد کو جھٹلا نہیں سکتے، بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کی شادی فراڈ تھی جو ثابت ہوئی، خاور مانیکا کو عدت میں رجوع کرنے کے حق سے محروم رکھا گیا، بچوں سے بھی  عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نکاح سے متعلق میٹیریل کیلئے بانی پی ٹی آئی سے بھی پوچھا گیا تھا؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.