وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات اسی صورت میں بحال ہو سکتے ہیں کہ بھارت کشمیر پر لچک دکھائے۔
جب تک بھارت میں الیکشن نہ ہو جائیں تب تک نہ پاکستان اور نہ ہی بھارت تجارت شروع کریں گے، اسرائیل کی طرف سے ایک خود مختار ملک کے سفارت خانے پر حملہ کیا گیا، ایران کے سینیئر فوجی افسر اس حملے میں شہید ہوئے۔
ایران جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے، ایرانی سفارت خانے پر حملے کے بعد توقع تھی کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا، ایران کے ساتھ جوکچھ ہورہا ہے وہ فلسطین کے ساتھ کھڑا رہنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
ایران کا اسرائیل پر حملہ ایک علامتی رد عمل اور نپا تلا حملہ تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل کی دفاعی تنصیبات کی معلومات ایران کو مل گئیں ہیں اور پورے اسرائیل کی میپنگ ہوگئی ہے، اسرائیل نے ایران پر جوابی حملہ کیا تو اسرائیل کا بہت نقصان ہوگا۔
اس جنگ کے اثرات پوری دنیا میں جائیں گے، جو بڑے ممالک اسرائیل کی پشت پناہی کر رہے ہیں یہ آگ ان کو بھی لپیٹ میں لے گی، اس جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی ہوں گے۔
پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے، پاکستان فلسطین کی آزادی کے لیے دعاگو اور ان کا حمایتی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ کشیدگی بڑھے لیکن فلسطین میں قتل عام بند ہونا چاہیے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی دباؤ نہیں۔
ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایران کےساتھ ایک واقعہ ہوا تھا لیکن ایران سے تعلقات مستحکم ہیں، گیس پائپ لائن پر بھی بات آگے بڑھی ہے جس سے تعلقات میں مزید مضبوطی آئی ہے۔
گوادر سے ایرانی سرحد تک اپنے حصے کی گیس پائپ لائن بنا رہے ہیں، پاکستان پائپ لائن بچھانے کی پوزیشن میں ہے اور ہم نے فیصلہ کرلیا ہے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔