سعودی عرب کو جانوروں کی برآمد سے پاکستان کیلئے اربوں روپے کا کثیر زرمبادلہ ممکن

0 113

حکومت کی طرف سے جہاں سعودی عرب کو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے وہیں لائیوسٹاک کے شعبے کو بھی سعودی سرمایہ کاری کے ذریعے برآمدات بڑھانے کا اہم ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب ہر سال حج کے موقع پر عازمین حج اور مقامی آبادی کی طرف سے قربانی کے لیے آسٹریلیا، صومالیہ، یمن اور دیگر ممالک سے تقریبا 20 سے 30 لاکھ جانور درآمد کرتا ہے۔

اگر قربانی کے یہ جانور پاکستان سے برآمد کیے جائیں اور ایک جانور کی قیمت کم از کم 50 ہزار روپے بھی حاصل ہو تو پاکستان کو سالانہ کم از کم 100ارب روپے کا زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان سعودی عرب کو حلال گوشت کی برآمد سے بھی سالانہ اتنا ہی زرمبادلہ باآسانی حاصل کر سکتا ہے۔

اس سلسلے میں اگر حکومت سعودی سرمایہ کاروں کے تعاون سے جانور پالنے والے فارمرز کو بلاسود قرضے دے کر لائیو سٹاک ڈپارٹمنٹ کی نگرانی میں قربانی کے لیے جانوروں کی عالمی معیار کے مطابق افزائش کو یقینی بنائے اور سال کے اختتام پر حج کے موقع پر یہی جانور سعودی عرب کو برآمد کرنے کے لیے خریداری کا منظم انتظام کیا جائے تو ناصرف دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ حکومت کو درپیش معاشی مسائل میں بھی کمی ہو گی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس وقت بھی پاکستان میں لائیوسٹاک کا شعبہ زرعی جی ڈی پی میں تقریباً 62 فیصد اور قومی جی ڈی پی میں 14.0فیصد کا حصہ ڈالتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.