پی ٹی آئی مرکزی سیکرٹریٹ سیل کرنے اور آپریشن کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

0 116

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں پی ٹی آئی رہنماعمر ایوب کی جانب سے وکلا شعیب شاہین اور عمیر بلوچ عدالت میں پیش ہوئے جب کہ سی ڈی اےکے وکیل حافظ عرفات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل نے دلائل دیے۔

دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے نے اپنے ریکارڈ میں نوٹسز لگائے مگر موجودہ نوٹس کاذکر نہیں، سی ڈی اے نے فراڈکیا، اگر دیکھا جائے تو 2 نوٹسز کا ایک ہی نمبر ہے اور جو نوٹسز بھیجے گئے وہ پی ٹی آئی کو نہیں بلکہ سرتاج علی کوبھیجےگئے ہیں۔

شعیب شاہین نے کہا کہ میڈیا میں بیان دیاگیا کہ ہم سرتاج علی سے زمین واگزار کرارہے ہیں، آپریشن کے وقت میڈیاکویہ بھی بتایاکہ پی ٹی آئی کو ہم نےنوٹس ہی نہیں کیا۔

سی ڈی اے وکیل نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے خود مانا انہوں نےکمرشل پلاٹ خریدا اور اس کا استعمال ہی تبدیل کردیا،کمرشل پلاٹ کو پارٹی کے لیے استعمال کیاگیا جس سے وہاں کے لوگ متاثر ہورہے ہیں، جتنی اجازت دی گئی انہوں نےاس کے اوپرمزید تعمیرات کیں۔

اس پر عدالت نے سی ڈی اے وکیل سے پوچھا کون سےنوٹس میں کہا ہےکہ اس پلاٹ کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیاجاسکتا ؟ اگر کسی نے پلاٹ کرائے پر دیا ہوا ہو تو نوٹس کس کو جائےگا؟

عدالت نے کہا ہم نےکئی کیسز دیکھے جن میں سی ڈی اے والےکبھی ایک کو نوٹس کرتے ہیں کبھی دوسرے کو، آپ ایسے معاملات پرمالک اور کرایہ دارکو نوٹسزکیوں نہیں کرتے تاکہ معاملہ ایک ہی بارمیں ختم ہو۔

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.