اسلام آباد ہائیکورٹ نے  5   افسران کی سزائے موت پرعملدرآمد روک دیا

0 102

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابرستار نے نیوی افسران کی درخواست پرتحریری حکم نامہ جاری کر تے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں کے مطابق انہیں جنرل کورٹ مارشل میں وکیل کی معاونت نہیں دی گئی اور وکیل کے مطابق ملزمان کو شواہداورکورٹ آف انکوائری کی دستاویزات بھی نہیں دی گئیں۔

 

عدالت کا کہنا ہے کہ وکیل کے مطابق عدالتی حکم پر وکلا کو دستاویزات تک محدود رسائی دی گئی، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے بتایاکہ دستاویزات تک رسائی کا اختیار نیول چیف کے پاس ہے اور نیول چیف سمجھتے ہیں دستاویزات تک رسائی سے ریاستی مفادات کو خطرہ ہوسکتا ہے۔

 

عدالت کے مطابق سوال یہ ہےریاست کےمفاد کوشہری کےحق زندگی سےکیسےبیلنس کرنا ہے، آئین کا آرٹیکل9 اور 10 اے شہری کو زندگی جینے اور فیئرٹرائل کا حق دیتے ہیں لہٰذا حق زندگی اور فیئر ٹرائل کے مدنظر درخواست کے زیر سماعت ہونے تک پھانسی نہ دی جائے۔

 

عدالت نے حکم دیاکہ فریقین چیف آف نیول اسٹاف کا مؤقف بمع وجوہات عدالت میں جمع کرائیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.