وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا، 9 مئی کو ملکی دفاع پر حملے کیے گئے، بانی پی ٹی آئی کا خاندان 9 مئی واقعات میں ملوث تھا۔
بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں کور کمانڈر ہاؤس کے باہر موجود تھیں، قوم کو کہا جا رہا تھا کہ انقلاب برپا ہونے لگا ہے فوری اپنی اپنی لوکیشنز پر پہنچیں،بانی پی ٹی آئی نے انتشار اور تشدد کی سیاست کو فروغ دیا، انہوں نے ملک کے دفاعی اداروں کو نقصان پہنچایا، ملک نے اگر ترقی کرنی ہے تو پاکستان اور تحریک انصاف ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف یہ دہشت گردوں کو لا کر پناہ گاہیں دے رہے تھے کہ یہ ملکی سالمیت میں کردار ادا کریں گے، دوسری طرف انہوں نے جی ایچ کیو اور کورکمانڈر ہاؤس پر حملہ کیا، انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کو ختم کیا۔
حکومت نے چار بڑے فیصلے کیے ہیں، آئین و قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، آپ نے سائفر کے ساتھ جو کیا آپ نے ملک دشمن قوتوں کو تقویت دی، یہ اربوں روپے آپ کے پاس آتے کہاں سے ہیں ؟ آنے والے دنوں میں اس سارے عمل کو مکمل کیاجائے گا۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا آئین حکومت کو ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث جماعت پر پابندی لگانے کا اختیار دیتا ہے، تحریک انصاف پر پابندی کے لیے جواز موجود ہے، تحریک انصاف نے غیر آئینی طور پر اسمبلیوں کو توڑا، ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو شرپسند عناصر پر پابندی لگانا ہی ہوگی۔
حکومت نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، حکومت پی ٹی آئی پر پابندی کے لیے کیس دائر کرے گی، پی ٹی آئی کا کیس سپریم کورٹ کو بھیجا جائے گا، بہت واضح ثبوت موجود ہیں کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگائی جائے، پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے آئندہ ہونے والے اجلاس میں آسکتا ہے۔
حکومت نے فیصلہ کیا ہے سابق صدر عارف علوی، بانی پی ٹی آئی اور سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کا کیس چلایا جائے، ان تینوں اشخاص کے خلاف وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد یہ ریفرنس سپریم کورٹ کو بھجوایا جائے گا۔
تاثرہے کہ ان لوگوں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا، ہمارے تحمل اور بردباری کو ہماری کمزوری سمجھا گیا ہے، ہمیں سیاسی تربیت دی گئی ہےکہ سیاسی مخالفین کی عزت کی جائے، نواز شریف اپنی اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ پر واپس وطن آئے، بانی پی ٹی آئی فاشسٹ حکمران تھے، ماؤں بہنوں کو گرفتار کیا گیا، شہباز شریف نے پی ٹی آئی دور میں کہا تھا کہ میثاق معیشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔
سنی اتحاد کونسل کا منشور ہےکہ کوئی غیر مسلم ان کی جماعت کا رکن نہیں بن سکتا،حالیہ فیصلے میں تحریک انصاف کو بن مانگے ریلیف دیا گیا، حکومت اور اتحادی جماعتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کےخلاف نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نظرثانی میں یہ استدعا کی جائےگی جنہیں ریلیف دیا گیا ہے کیا انہوں نے مانگا تھا؟
ایک سیاسی جماعت کو وہ حق دیا گیا جس کا وہ حق نہیں رکھتی، ہم سمجھتے ہیں کہ نظرثانی کی اپیل دائر کرنے میں حق بجانب ہیں، پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروائے، جن ایم این ایز کو ریلیف دیا گیا ہے کیا وہ عدلیہ کے سامنے موجود تھے؟ کیا انہوں نے یہ ریلیف مانگا تھا جو انہیں دیا گیا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ فارن فنڈنگ آپ کے پاس ہے، یہودی لابی آپ کو سپورٹ کرتی ہے، یہودی لابی سے فنڈنگ آپ کو ملتی ہے، ملک میں سائفر کا کھیل رچایاگیا، امریکا میں تعینات سابق سفیر اسد مجید کہہ رہے ہیں کہ کوئی تھریٹ موجود نہیں تھا، بانی پی ٹی آئی نے خود کہا کہ سائفر کے ساتھ کھیلنا ہے لیکن عدالت یہ بات ماننے سے قاصر ہے۔
ان کا کہنا تھا آپ نے آئی ایم ایف کی ڈیل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، ملک کے ساتھ اب کھلواڑ نہیں ہونے دیں گے، اب یہ چیئرمین نیب کو ٹارگٹ کر رہے ہیں اور نیب پر پریشر ڈال رہے ہیں، یہ ممنوعہ فنڈنگ والے،دہشت گردی کرنے والے اور دفاعی ادارے پر حملہ کرنے والے لوگ ہیں، ہم بھر پور طریقے سے اپنا مقدمہ لڑیں گے۔