پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورت بدنیتی پر مبنی قانون کو ختم کر سکتی ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے اور نمائندہ مقرر کرنے کا نہیں کہا۔ کل ہم جماعت اسلامی کے دھرنےمیں اظہار یکجہتی کے لیے گئے تو پولیس ہماری گرفتاری کے لیے پہنچ گئی، ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
پاکستان کی ترقی کا واحد راستہ یہی ہے کہ آئین اور قانون کی بالا دستی کو یقینی بنایا جائے۔ بانی پی ٹی آئی عوام کے حقیقی نمائندہ ہیں اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، ججز کے خلاف بل لایا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے وضاحت دے دی ہے کہ ہم غیر جانبدار نہیں تھے۔
ڈیڑھ کروڑ لوگ سطح غربت سے نیچے جا چکے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ان کٹھ پتلیوں سے پیچھے ہو اور آئین کے مطابق کام کرے۔ پارلیمنٹ سپریم نہیں ہو سکتی، پارلیمنٹ آئین اور قانون بناتی ہے۔ بدنیتی پر مبنی قانون کو سپریم کورٹ ختم کر سکتی ہے۔
شیر افضل مروت کی پارٹی سے معطلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا نوٹی فکیشن ہو چکا ہے، اس کی ہدایت بانی پی ٹی آئی نے دی تھی۔ شیر افضل مروت کا معاملہ پی ٹی آئی کا اندرونی معاملہ ہے۔