میں اپنے ہی آرڈر کا خود شکار ہو گیا تھا، اسلام آباد بندش کے خلاف کیس میں جسٹس عامر فاروق حکومت پر برہم

0 104

24 نومبر کے احتجاج کو روکنے کے لیے اسلام آباد کی بندش پر تاجروں کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے حکومت اور انتظامیہ پر برہمی کا اظہار کیا۔

کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ہائیکورٹ عامر فاروق نے انتظامیہ سے کہا آپ نے امن و امان بحال کرنا تھا مگر آپ نے پورا اسلام آباد بند کر دیا، درخواست گزار نے کہا کہ ہمارے کاروبار کو چلنے دیں، تو آپ نے میڈیا پر ہر جگہ کہا کہ عدالتی آرڈر پر ہم اجازت نہیں دے رہے۔

انھوں نے کہا عدالت نے کہا تھا کہ شہریوں اور کاروباری لوگوں سمیت مظاہرین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھیں، پی ٹی آئی سے بھی پوچھوں گا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کیوں کی گئی، پی ٹی آئی نے غلط کیا تو حکومت نے بھی تو غلط کیا، درخواست گزار کا کیا قصور تھا؟ ان کے کاروبار کو کیوں بند کیا گیا؟

چیف جسٹس عامر فاروق نے اسٹیٹ کونسل سے کہا کہ آپ نے اسلام آباد ایسے بند کیا تھا کہ ججز سمیت میں بھی نہیں آ سکا، میں اپنے ہی آرڈر کا خود ہی شکار ہو گیا تھا۔

کیس کی پیروی کے لیے ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ، اسٹیٹ کونسل ملک عبد الرحمان و دیگر عدالت میں پیش ہوئے، اسٹیٹ کونسل ملک عبد الرحمٰن نے بتایا کہ کچھ رپورٹس آ گئی ہیں اور کچھ آنا باقی ہیں۔

عدالت نے اسٹیٹ کونسل سے استفسار کیا کہ کیا آپ پہلی بار عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں؟ عدالت نے اسٹیٹ کونسل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا آپ نے یہ ماہرانہ رائے وہاں دینی تھی۔ میں سب سے پوچھوں گا کہ حکومت سے لڑائی میں عام شہریوں کا کیا قصور تھا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.