عارف حبیب گروپ کے چیئرمین عارف حبیب نے کہا کہ بجٹ میکرو اکنامک استحکام کے لیے اس حد تک تو اچھا ہے کہ اس میں آئی ایم ایف کے مطالبات پورے کیے گئے ہیں مگر ایکسپورٹ انڈسٹری کی گروتھ بڑھانے کے لیے شرح سود، انرجی کی قیمت اور ٹیکسوں میں کمی ضروری ہے۔
پاکستان بزنس کونسل کے چیف ایگزیکٹو احسان ملک نے کہا کہ شرح سود میں کمی کی جو توقع لگائی جارہی تھی وہ اب پوری نہیں ہوگی کیونکہ بجٹ کے بعد مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ دودھ پاکستان میں فرانس اور ہالینڈ سے مہنگا ہوچکا ہے۔
سی ای او لکی سیمنٹ محمد علی ٹبا کا کہناتھاکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے مزید بوجھ کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں کہ ہنرمند ملک سے ہجرت کر جائیں، ایکسپورٹ میں کمی کا خدشہ ہے اور شرحِ نمو پر منفی اثر پڑے گا۔
سی ای او ایم ڈی سسٹمز لمیٹڈ آصف پیر نے کہا ہے کہ ٹیکس سلیب بڑھنے کے بعد لوگ کیش میں تنخواہیں لینے اور دو اکاؤنٹس میں تنخواہیں لینے کے راستے ڈھونڈیں گے۔
چیئرمین اپٹما آصف انعام نے کہا کہ اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ بجلی کی قیمت کا ہے، 80 فیصد مسائل بجلی کی قیمت کی وجہ سے ہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے نظام کی وجہ سے معاشی مسائل بڑھے ہیں، ڈیمز کیوں نہیں بنائے جارہے؟ پی ایس ڈی پی کو سستی بجلی کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔
ٹاپ لائن سکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل کا کہناتھاکہ حکومت کے سامنے چیلنج ڈیفالٹ سے بچنے کا تھا، اس وقت ترجیح معاشی گروتھ نہیں بلکہ میکرو اکنامک استحکام ہے، بجٹ کی سمت درست ہے، تین چار سال میں بہتری آئے گی اور ٹیکس کے نفاذ پر سوالات اب بھی موجود ہیں۔
بیرونی سرمایہ کاری پر اظہار خیال کرتے ہوئے محمد سہیل نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سب سے بڑا خطرہ سیاسی عدم استحکام ہے، دیگر تمام خطرات ایک طرف اور سیاسی عدم استحکام کا خطرہ 50 فیصد سے زائد ہے۔
ماہر معاشیات عمار حبیب خان نے کہا کہ اس ٹیکسیشن رجیم اور شرح سود پر سرمایہ کاری کا کوئی امکان نہیں ہے، باہر سے کوئی اپنا پیسہ کیوں لے کر آئے گا جب یہاں کے لوگ سرمایہ کاری نہیں کر رہے؟
سی ای او لکی سیمنٹ محمد علی ٹبا نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری لانے کے لیے سکیورٹی صورتِ حال میں بہتری لانا بہت ضروری ہے، سرمایہ کار کم از کم یہ ضرور دیکھے گا کہ وہ اس ملک میں بلٹ پروف گاڑی کے بغیر نقل و حرکت کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا۔