حماس نے ایک بار پھر غزہ میں نسل کشی بند کرانے کا مطالبہ کیا ہے

0 105

حماس نے غاصب صیہونی حکومت کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کا حکم صادر ہونے کے باوجود صیہونی حکومت کے جرائم کا سلسلہ جاری رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی رکوانے کے لئے فوری اقدام کیا جائے

حماس نے ایک بیان جاری کرکے بتایا ہے کہ بیت لاہیا میں فلسطینیوں کے گھروں پر بمباری انہیں یہاں سے کوچ پر مجبور کرنے کے لئے کی جارہی ہے۔

حماس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کمال عدوان اسپتال اور طبی عملے پر مسلسل حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ غاصب صیہونی حکومت مظلوم فلسطینی عوام کی نسل کشی پر مصر ہے۔

حماس نے کہا کہ غزہ ميں 425 دن سے غاصب صیہونی حکومت نے وحشیانہ جرائم اور مظلوم فلسطینی عوام کی نسل کشی جاری رکھی ہے۔

حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی کوئی پرواہ کئے بغیر اور بین الاقوامی نظام کی ناکامی کے سائے میں، دن رات ہولناک جرائم کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

حماس نے کہا ہے کہ اس کے باوجود کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نتین یاہو اور سابق وزیر جنگ یواو گالانت کی گرفتاری کا حکم صادر کرچکی ہے، صیہونی حکومت نے رہائشی علاقوں اورلوگوں کے گھروں پر بمباری اور انہیں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے جو ایسے جنگی جرائم، اور نسلی تصفیہ ہے کہ جس کی معاصر تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔

حماس نے عرب اور اسلامی ملکوں، اقوام متحدہ نیز اس کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کا محاصرہ ختم اور فلسطینی عوام کی نسل کشی رکوانے کے لئے فوری طور پر ضروری اقدامات انجام دیں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.