خیبرپختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا فیصلہ کالعدم

0 116

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ پشاور ہائی کورٹ کا لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا حکم قانون کے برخلاف ہے اس لیے لوڈشیڈنگ سے متاثرہ افراد نیپرا سے رجوع کریں۔

قانون میں ڈسکوز کے خلاف نیپرا اتھارٹی اور ٹربیونل کے فورم قائم کیے گئے ہیں، متعلقہ فورم کے ہوتے ہوئے ہائیکورٹ براہ راست حکم جاری نہیں کر سکتی۔

وکیل پیسکو نے کہا کہ ہائیکورٹ نے لوڈشیڈنگ کی صورت میں حکام کے خلاف مقدمات درج کرانے کا حکم دیا، لوڈ شیڈنگ پورے ملک کا مسئلہ ہے پیسکو حکام کے خلاف مقدمات بلاجواز ہوں گے۔

وکیل جواب دہندہ نے کہا کہ عدالت نے گزشتہ حکم میں لوڈشیڈنگ کی تفصیل مانگی تھی، ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ بل دینے والوں کو بجلی فراہم کی جائے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے میں کئی تکنیکی نکات بھی آسکتے ہیں عدالت کیسے جائزہ لے گی، جن فیڈرز سے ریکوری نہیں ہو رہی ان کا کیا کریں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پیسکو کی اپیل منظور کر لی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.