تلخ فیصلے نہ کیے تو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا، وزیراعظم

0 227

وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں کسان پیکیج کے دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری تھی، تلخ فیصلے نہ کیے تو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔

وفاق بلوچستان سے مل کر صوبے کے 28 ہزار ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرے گا، بلوچستان میں بجلی پر چلنے والے 28 ہزارٹیب ویلوں کو شمسی توانائی پرمنتقل کیا جارہا ہے، منصوبے پر 55 ارب روپے کی لاگت آئے گی جس میں 70 فیصد وفاق اور 30 بلوچستان حکومت ادا کرے گی۔

ٹیوب ویلز کے شمسی توانائی پر منتقل ہونے سے کسان خوشحال ہو گا، وفاق نے دس سال میں ٹیوب ویلز کے لیے بجلی کے بلز کی مد میں 500 ارب روپے دیے ہیں، ہر سال 70 سے 80 ارب روپے بجلی کے بلز کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں، بجلی کے بل ادا نہیں ہوتے جس کا بوجھ وفاق اٹھا رہا ہے۔

بلوچستان ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہے جس کی کئی وجوہات ہیں، اگر 500 ارب سبسڈی کا پیسہ بلوچستان کی ترقی خوشحالی پر لگا ہوتا تو یہاں ترقی ہوتی، کسانوں کو سولر پینل مہیاکیےجائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان نے یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ تین ماہ میں 28 ہزار کنکشن لگ جائیں گے، یہ منصوبہ تین ماہ میں مکمل ہو گا یہی اصلاحات کا ایجنڈا ہے۔

پورے پاکستان میں 10 لاکھ ٹیوب ویلز شمسی توانائی پرمنتقل کریں گے، تیل پر چلنے والے 10 لاکھ ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کریں گے، ہم قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں، سولر منصوبے کے لیے ہم صوبوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور کسانوں کو بینکوں سے قرضے بھی دلوائیں گے۔

وفاق نے بلوچستان میں دانش اسکولوں کے لیے بجٹ میں فنڈز رکھے ہیں، چاروں صوبوں کے ایک ہزار گریجوئٹس کو زرعی تربیت کے لیے چین بھیجیں گے، بلوچستان کا کوٹہ دیگر صوبوں سے 10 فیصد زیادہ رکھا ہے۔

آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری تھی، قرضوں نے ہماری نسلوں کو بھی گروی رکھ دیا ہے، قرضوں سے جان چھڑانے کے لیے وفاق، صوبے اور متعلقہ ادارے کام کریں گے تو آنے والی نسلیں دعائیں دیں گی، اگر تین سال بعد دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

ہم سب مل کر چیزوں کو بہتر کریں گے، ہم نے اسی ماہ آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کرنا ہے، تلخ فیصلہ نہ کیے تو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا، باقی صوبوں کو اللہ نے بہت وسائل دیے ہیں، بلوچستان میں فاصلے بہت ہیں اس کے لیے وسائل چاہئیں۔

جو بلوچستان اور پاکستان کی خیرخواہی چاہتا ہے تو ہم اس کو گلے لگائیں گے، ہم نے عام آدمی کو ریلیف دینا ہے، وفاق، بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے آپ کے ساتھ ہے، اگر بلوچستان اور کے پی میں سرمایہ کاری لانی ہے تو سکیورٹی ہماری سب سے پہلی ضرورت ہے، ہم دہشتگردی کے ناسور کو مل کر ختم کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گوادر کے حوالے سے میں شکایت نہیں کر رہا،گوادر میں سیف سٹی بند کر دیا گیا، گوادر ان شاء اللہ ریکوڈک کی کانوں سے زیادہ فائدہ مند ہو گا، ہم گوادر کو شاندار پورٹ بنانےکے لیے تیار ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.