جماعت اسلامی کا دھرنا جاری، حکومت سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار

0 109

آئی پی پیز معاہدوں، مہنگی بجلی اور تنخواہ دار طبقے پراضافی ٹیکسوں کےخلاف راولپنڈی میں جماعت اسلامی کا دھرنا دسویں روز بھی جاری رہا۔

مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے اور جماعت اسلامی کی جانب سے حکومت پر بات چیت سے فرارکا الزام عائد کیا گیا ہے۔

دوسری جانب کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا، جس میں آج امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے بھی شرکت کی۔

حافظ نعیم الرحمان نے شرکا سے اپنے خطاب میں کہا کہ جاگیرداروں سے انکم ٹیکس کیوں وصول نہیں کیا جاتا؟ انہوں نے کہا کہ آج اعلان کریں اور کل سے ٹیکس وصول کریں۔

حافظ نعیم الرحمان نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ بجلی کے بل کم کردیجیے، اسی میں آپ کی نجات ہے، ورنہ دھرنا تحریک کہیں آپ کو ہی نہ لے کر ڈوب جائے۔

عوام کے غصے سے بچنا ہے تو آپ کو ہمارا مطالبہ ماننا پڑے گا، تنخواہ دار طبقے نے 368 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے، وزیراعظم اور وزرا میٹنگ میں کہتے ہیں جماعت کی تجاویز قابل عمل ہیں، میڈیا میں کہتے ہیں کہ تجاویز قابل عمل نہیں۔

حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ ڈھائی کروڑ ایکڑ زمین پر انکم ٹیکس کیوں نہیں لگاتے ہیں، سارا بوجھ تنخواہ دار طبقہ اٹھائے یہ نہیں چلے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.