نیوز لٹریسی پراجیکٹ کے ماہرین نے کہا ہے کہ امریکی انتخابات سے قبل سوشل میڈیا پر فیک نیوز پھیلانے والوں نے ووٹروں کو متاثر کرنے کیلئے معروف شخصیات اور سیلیبرٹیز کی حمایتوں پر مشتمل جعلی خبروں کو نیا ہتھیار بنا لیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی کی خبر کے مطابق نیو لٹریسی پراجیکٹ کی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں سوشل میڈیا پر جعلی دعوؤں کے علاوہ صدارتی امیدواروں کیلئے سیلیبرٹیز اور معروف شخصیات کی حمایت کی جعلی پوسٹس کی بھرمار ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیوز لٹریسی پراجیکٹ کی جانب سے جاری ڈیٹا بیس میں بتایا گیا ہے کہ ادارے کی جانب سے جعلی حمایت پر مبنی ہر 10 وائرل پوسٹوں میں سے ایک کا تجزیہ کیا گیا،حالیہ صدارتی انتخاب سے قبل انتخابی مہم کے دوران 550 کے قریب مس انفارمیشن کے منفرد معاملات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایسی جعلی حمایت کے دعوؤں کی تازہ ترین مثال ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر سامنے آیا جہاں انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے تخلیق کی گئی پوسٹ شیئر کی جس میں ٹیلر سوئفٹ کے پرستاروں کا ہجوم نظر آ رہا ہے جو خود کو ’سوئفٹیز فار ٹرم‘ کہہ رہے ہیں۔
امریکی پاپ گلوکارہ کی اس حمایت سے متعلق اس پوسٹ پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’I accept‘ لکھ کر اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کردیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سےشیئر کیے گئے تصویروں کے کولاج میں ٹیلر سوئفٹ کو ’انکل سَیم‘ کی شرٹ پہنے ہوئے دکھایا گیا تھا تاہم وہ تصویر بھی جعلی نکلی، جبکہ ایک دوسری تصویر میں، جو کہ اصل معلوم ہوتی ہے، دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک نوجوان خاتون نے وہ شرٹ پہن رکھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماضی میں امریکی گلوکار ٹیلر سوئفٹ ٹرمپ کو ان ہی کے دور حکومت میں ’سفید فام نسل پرستی کی آگ بھڑکانے کا ذمہ دار‘ قرار دیا تھا جبکہ 2020 کے انتخابات میں بھی انہوں نے جو بائیڈن کی حمایت کا اعلان کیا تھا تاہم اس مرتبہ تاحال انہوں نے کسی بھی صدارتی امیدوار کی حمایت نہیں کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے تیار کی گئی ایسی پوسٹس نیشنل فٹبال لیگ (این ایف ایل) کے ستاروں سے لیکر آرون راجرز، مورگن فری مین، موسیقار بروس اسپرنگٹن سمیت دیگر شوبز شخصیات اور مشیل اوباما جیسی سیاسی شخصیات کی جعلی اینڈورسمنٹ پر مبنی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف ان چار شخصیات سے منسوب جعلی پوسٹس کو 10 ملین سے زیادہ ویوز ملے تھے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ نہ تو ٹیلر سوئفٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی ہے، نہ ریان رینلڈ نے کملا ہیرس کے نام کی شرٹ پہنی اور نہ ہی امریکا کی کمیونسٹ پارٹی نے کبھی جو بائیڈن کی انتخابی مہم کی حمایت کی ہے۔
رپورٹ میں ایسی تمام پوسٹوں کو جعلی حمایت اور فیک نیوز قرار دیا گیا ہے۔