جنوبی کوریا جہازحادثہ، ایئرلائن کے مالک پر بیرون ملک جانے پر پابندی

0 107

جنوبی کوریا کی پولیس نے ملک کی ایوی ایشن کی تاریخ کے بدترین حادثے کے شکار جہاز کی کمپنی جے جو کے مالک پر بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کردی اور تفتیش کے لیے دفاتر اور مووان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی چھاپے مارے۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے ٹرانسپورٹ کے نائب وزیر جو جونگ وان نے میڈیا کو بتایا کہ کاک پٹ کے وائس ریکارڈر کا ڈیٹا آڈیو فائل میں منتقل کرنے کا کام مکمل ہوگیا، جس سے اہم معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔

جنوبی جیولا کی صوبائی پولیس نے بیان میں کہا کہ پولیس کے تفتیش کاروں نے ایئرپورٹ آپریٹرز کے دفاتر اور مووان کے جنوب مغربی علاقے میں وزارت ٹرانسپورٹ ایوی ایشن اتھارٹی کے دفاتر میں چھاپے مارے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے جہاز کمپنی جے جیو ایئر کے سیول میں واقع دفاتر کی تلاشی لی اور تفتیش کے سلسلے میں معلومات اکٹھی کیں۔

پولیس افسر نے بتایا کہ تفتیش کاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ طیارے کے آپریشن اور مینٹیننس سے متعلق تمام دستاویزات اور میٹریل ضبط کرلیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ایئرپورٹ کی دستاویزات بھی حاصل کی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے جے جو ایئر کے چیف ایگزیکٹیو کم اے بائی اور دیگر چند عہدیداروں کو بیرون ملک جانے سے پابند کردیا ہے اور قرار دیا ہے کہ مذکورہ افراد ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر اموات کے حوالے غفلت کے مرتکب قرار پا سکتے ہیں۔

افسر نے بتایا کہ غفلت برتنے کی سزا 5 سال تک قید اور 20 ملین وون (13 ہزار 600 ڈالر) جرمانہ ہوسکتا ہے۔

دوسری طرف ایئرلائن کے ڈائریکٹر نے میڈیا کو بتایا کہ جے جو ایئر پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ جنوبی کوریا کی ایئرلائن جے جو ایئر کا طیارہ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے پرواز بھرنے کے بعد مووان ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوا تھا اور جہاز میں سوار عملے کے صرف دو ارکان کے علاوہ دیگر تمام 179 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

جنوبی کوریا کی ایوی ایشن کی تاریخ میں اس کو بدترین حادثہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں عملے کے ارکان کو امدادی کارکنوں نے زندہ نکال لیا تھا جو بوئنگ کے آخری حصے میں بیٹھے ہوئے تھے۔

وزارت ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ دونوں افراد میں سے ایک حالت انتہائی تشویش ناک ہے اور دوسرے کو بھی طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.